UCLkHN_A8TPz3oNUjsSrEgUg

Thursday, January 9, 2020

پیاز؛ فوائد سے بھرپور قدرت کا خزانہ

پیاز کی تاثیر بعض تکلیف دہ امراض میں اتنی سود مند ثابت ہوتی ہے کہ اس کے آگے قیمتی سے قیمتی دوائیں ہیچ ہیں۔ پیاز کے کیمیائی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں حیاتین اور دوسرے قیمتی عناصر بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ پیاز جراثیم کش ہے، اس کا استعمال گہری نیند کا ضامن ہے۔ خواب آور گولیوں کو چھوڑنے کے خواہش مند اگر پیاز کا شوربا چند روز نوش فرمائیں، تو کم خوابی کی شکایت ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی۔

فرانس میں پیاز کا سوپ شوق سے پیا جاتا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ دوسرے یورپی ملکوں کے مقابلے میں فرانس میں دل کے امراض کم ہوتے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم میں روسی ڈاکٹروں نے محاذ جنگ پر زخمی ہونے والے سپاہیوں کا علاج محض کچی پیاز سے کیا تھا۔ زخم پر پیاز باندھ دی جاتی اور ایک دو دن کے اندر اندر زخم خشک ہو جاتا۔
دور جدید میں ہارٹ فیل ہوجانا بے حد عام ہو چکا ہے، چناں چہ برطانوی اسپتالوں میں تجزیوں کے بعد معلوم کیا گیا ہے کہ پیاز کا مسلسل استعمال دل کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ روم کے بادشاہ نیرو کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی آواز بہتر بنانے کے لیے پیاز کھایا کرتا تھا۔ پیازکا پانی سونگھنے سے نکسیر کا خون بند ہو جاتا ہے۔ سفید پیاز کوٹ کر کپڑے میں نچوڑ کر پانی نکال لیں اور اسے نیم گرم کرکے چند قطرے کان میں ڈالیں فوراً درد ٹھیک ہو جائے گا۔
ہیضے کے دنوں میں پیاز کو پھوڑ پھوڑ کر جگہ جگہ گھر میں اس طرح رکھا جائے کہ سارے گھر میں پیاز کی بو سما جائے، یہ ہیضے سے محفوظ رہنے کی نہایت عمدہ تدبیر ہے۔
گٹھیا کے مرض میں پیاز کا پانی اور رائی کا تیل ملاکر جوڑوں پر مالش کریں، اس سے سب جوڑ کھل جائیں گے اور آرام آجائے گا۔ گلے کی سوزش کے لیے پیاز پیس کر دہی اور شکر ملاکر کھانے سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔
زکام کی وجہ سے ناک سے پانی بہہ رہا ہو۔ پیاز کا پانی سونگھنا اور پیاز کھانا مفید ہے۔ پیٹ کے درد کے لیے پیاز کو آگ میں گرم کر کے نچوڑیں اور پانی نکال لیں۔ اس میں ایک ماشہ نمک ملا کر مریض کو کھلائیں، درد جاتا رہے گا۔
قے بند کرنے کے لیے پیاز سونگھانا مفید ہے۔ اس سے متلی کی شکایت بھی دور ہو جاتی ہے۔ مثانے کی پتھری کے لئے پیاز کوٹ کر پانی نکال لیں اور روزانہ چار تولے صبح کے وقت پی لیں، ان شا اللہ افاقہ ہوگا۔

Wednesday, January 8, 2020

100 بیماریوں کا فطری اور آسان علاج

1 ۔گھیکوار کا گودا صبح شام منہ پر لگانے سے چہرے کے داغ دھبے آہستہ آہستہ دور ہو جاتے ہیں۔

2۔ پیشاب کی جلن دور کرنے کے لیے پانی کا زیادہ استعمال کریں۔
-3 زیادہ پیاس لگے تو ککڑیاں کھائیں۔ پیاس کسی صورت نہ بجھے تو دودھ کی کچی لسی بنا کر دو تین گلاس پئیں۔ پیاس ختم ہو جائے گی۔
-4پاؤں جلتے ہوں تو صبح شام گھیکوار کے گودے سے مالش کریں۔
-5دل کی تیز دھڑکن اور پیٹ میں گیس کو روکنے کے لیے سونف اور خشک دھنیا ایک ایک چھٹانک صاف کرکے پیس لیں۔ ڈیڑھ چھٹانک شکر ملائیں، صبح شام ایک ایک چمچ لیں۔
-6اپنی نظر بہتر بنانے کے لیے سات بادام پیس کر آدھا چمچ سونف مصری کے ساتھ روزانہ لیں۔
-7گرمیوں میں آنکھ کی سرخی اور جلن دور کرنے کے لیے پانچ یا سات آملے لے کر مٹی کے پیالے میں رات کو بھگو دیں، صبح پانی چھان کر آنکھوں پر چھینٹے ماریں۔
-8بچوں میں پیٹ کے کیڑوں سے نجات کے لیے کمیلہ کا 3 گرام سفوف صبح شام دیں۔
-9پاؤں پھٹنے اور جلن کے علاج کے لیے ایک تولہ کچا سہاگا ایک تولہ پھٹکڑی، ایک تولہ گندھک لے کر پیس لیں اور اس میں پٹرولیم جیلی ملا کر رات کو سوتے وقت پاؤں پر لگائیں چند دنوں میں افاقہ ہو جائے گا۔
-10موٹاپا کم کرنے کے لیے پسی ہوئی کلونجی کا آدھا چمچ ایک کپ پانی میں ابال کر صبح نہار منہ اور شام کو لیں۔ ایک گلاس پانی میں کلونجی تیل کے چار پانچ قطرے اور ایک لیموں کا رس ڈال کر صبح شام متواتر ایک مہینہ لینے سے بھی موٹاپے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
-11زکام کے خاتمے کے لیے تھوڑی سی چینی دہکتے ہوئے کوئلوں پر ڈال کر اس کا دھواں سونگھیں۔
-12ہرے دھنیے کا پانی نکال کر سونگھنے سے چھینکوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
-13نکسیر کا خون بند کرنے کے لیے سبز دھنیے کا پانی نکال کر سونگھیں۔
-14ناک کی بدبو دور کرنے کے لیے چٹکی بھر پھٹکڑی تھوڑے سے پانی میں حل کر کے ناک میں ڈالیں۔
-15چھوٹے بچوں میں پیشاب کی جلن دور کرنے کے لیے پانی میں پیاز کچل کر 60 گرام چینی ملا کر صبح شام دو سے تین چمچ پلائیں۔
-16بدہضمی اور الٹیاں روکنے کے لیے 30 گرام پیاز، پودینہ کے چند پتے سات عدد کالی مرچ اچھی طرح ملا کر دیں۔
-17صبح شام سلاد کے طور پر پیاز کا استعمال بدہضمی روکتا ہے اور قوت باہ بڑھاتا ہے۔
-18بھوک بڑھانے کے لیے پھلوں کے سر کے میں پیاز اور ادرک کاٹ کر، پودینے کے پتے، لہسن کے دو چار ٹکڑے اور تھوڑی سی کشمش ملا کر کھانے کے ساتھ بطور سلاد استعمال کریں۔
-19سر کے زخم اور خارش دور کرنے کے لیے نیم کی نمولیاں پیس کر پانی میں ملا کر گاڑھا لیپ بنا کر رات کو بالوں میں اچھی طرح لگائیں۔
-20سردیوں میں ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کی سوجن دور کرنے کے لیے گھیا (لوکی) کا کدوکش کر کے ہاتھ پاؤں پر اچھی طرح لگائیں ایک گھنٹے بعد ہاتھ پاؤں دھو لیں اور پھر پٹرولیم جیلی لگائیں۔
-21کھانسی روکنے کے لیے صبح، دوپہر، شام ملٹھی منہ میں رکھ کر چوسیں اور اس کا جوس نگل لیں۔
-22آنکھوں کی جلن دور کرنے کے لیے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں اور برف سے ٹکور کریں۔
-23زخم کی سوجن دور کرنے کے لیے زخم پر پیاز جلا کر اس میں ہلدی ملا کر لیپ بنا کر لگائیں۔
-24دائمی قبض روکنے کے لیے صبح شام زیتون کا تیل استعمال کریں۔
-25پیٹ کے جملہ امراض روکنے کے لیے اسپغول کا چھلکا بلاناغہ استعمال کریں۔
-26ہچکی روکنے کے لیے دیسی گھی میں سوجی کا حلوہ بنا کر کھائیں۔ منہ میں برف کی ڈلی رکھیں یا آہستہ آہستہ گنڈیریاں چوسیں۔
-27بچوں میں بخار زیادہ ہو جائے تو فوراً نہلا دیں یا ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کریں۔
-28دست اور قے روکنے کے لیے سونف، پودینہ دھنیا کا قہوہ بنا کر پلائیں۔
-29پاؤں کو نرم و ملائم کرنے کے لیے سونے سے دس منٹ پہلے پاؤں تازہ پانی میں بھگوئیے۔ پانی میں چند قطرے روغن زیتون اور تھوڑا سا نمک ملائیں۔ خشک کر کے پٹرولیم جیلی یا سرسوں کا تیل لگائیں۔
-30کولیسٹرول کم کرنے کے لیے ایک چمچ آملہ پاؤڈر اور مصری پاؤڈر ملا کر روزانہ صبح نہار منہ ایک گلاس پانی کے ساتھ لیں۔
-31زہریلے کیڑے کے کاٹ لینے کی صورت میں لہسن کا تیل اور شہد ملا کر زخم والی جگہ پر لگائیں۔
-32بچوں میں پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کے لیے کلونجی کو پانی میں ابال کر اس کا پانی رات کو سونے سے پہلے پلائیں۔
-33جوڑوں کی درد روکنے کے لیے نیم کے پتوں کے تیل کی مالش کریں۔
-34کھانسی دور کرنے کے لیے ایک چمچ شہد اور ایک چمچ ادرک کا رس ملا کر روزانہ صبح دوپہر۔ شام تین سے پانچ روز تک لیں۔
-35لہسن کو جلا کر سر کے اور شہد میں ملا کر لگانے سے پھوڑے پھنسیاں اور نشان دور ہو جاتے ہیں۔
-36ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے ان چھنے آٹے میں تازہ یا پسی ہوئی میتھی ملا کر روٹی بنا کر روزانہ ناشتے میں کھائیں۔ دو سے تین ہفتوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔
-37دانت کے درد کو دور کرنے کے لیے لونگ استعمال کریں۔
-38بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیے آڑو، پھلیاں ، لوبیا ، مٹر ، ناشپاتی، کیلا زیادہ استعمال کریں۔
39 ۔کولیسٹرول کا لیول کم کرنے کے لیے جئی کا آٹا اورگاجر زیادہ استعمال کریں۔
-40سونف کا زیادہ استعمال آنکھوں کی بینائی تیز کرتا ہے۔
-41شکر اور سونف ہم وزن لے کر اس کو کوٹ لیں، چکر دور کرنے کے لیے صبح و شام ایک چمچ پانی کے ایک گلاس لے لیں۔
-42صبح نہار منہ روزانہ دو سے تین گلاس پانی پئیں۔ نظام انہضام درست ہو جائے گا۔
-43دانتوں کی چمک برقرار رکھنے کے لیے صبح و شام نیم کی مسواک استعمال کریں۔
-44برص کے داغ دور کرنے کے لیے خالص شہد ایک چمچ، عرق پیاز ایک چمچ اور نمک آدھا چمچ ملا کر داغوں پر لگائیں۔
-45حمل میں گرمی، قے اور سر درد دور کرنے کے لیے آلو بخارا کا زیادہ استعمال کریں۔ آلو بخارا کا شربت بنانے کے لیے پانچ چھ آلو بخارے رات کو پانی کے گلاس میں بھگو دیں ۔ تھوڑی سی چینی اور نمک ملا کر آلو بخارے مسل دیں۔ برف ڈال کر استعمال کریں۔
-46موٹاپا دور کرنے کے لیے اپنی خوراک سے ہر قسم کی چکنائی، کولاڈر نکس اور مٹھائیوں کا استعمال بالکل ترک کردیں۔
-47تازہ پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
-48دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے صبح و شام سیر کریں اور مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں۔
-49چھینکوں کی بھرمار سے بچنے کے لیے ایک چمچ میتھی دانہ ایک کپ پانی میں ابال لیں۔ ٹھنڈا کر کے اس کو چھان کر سونے سے پہلے دو تین ہفتے تک پئیں۔
-50ڈکار دور کرنے کے لیے کھانے کے بعد ادرک کے باریک ٹکڑوں پر نمک چھڑک کر آہستہ آہستہ چبا کر کھائیں اس کے علاوہ سالن میں ادرک اور لہسن کا استعمال زیادہ کریں۔
-51خون کی کمی دور کرنے کے لیے انار کا جوس زیادہ پئیں۔ چقندر کا استعمال بطور سلاد کریں اور سیب بھی خوب کھائیں۔
-52ہاتھ یا پاؤں میں پسینہ زیادہ آتا ہو تو پانی میں لیموں کا رس یا سرکہ ملا کر دن میں تین بار اور سونے سے پہلے دھوئیں، افاقہ ہو گا۔
-53پیٹ میں ہر وقت گیس رہتی ہو تو میتھی کے بیج کھائیں۔گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے کے لیے روزانہ نہار منہ پانچ عدد انجیر کھائیں اور پتھر چٹ پودے کے پتے چبائیں۔
-54آنکھوں کے گرد حلقے دور کرنے کے لیے صبح سویرے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رگڑیں اور گرم گرم انگلی آنکھوں کے گرد حلقے پر پھیریں۔
-55جسم کی چربی پگھلانے کے لیے نہار منہ پانی میں شہد اور چند قطرے لیموں ڈال کر روزانہ لیں۔
-56مسوڑھوں سے خون بہتا ہو تو جامن کے دو تین پتے دھو کر چبائیں اور اسے مسوڑھوں پر ملیں۔
-57بچوں میں ناک کی نکسیر روکنے کے لیے انہیں ککڑی اور کھیرا کھلائیں۔
-58ناخن مضبوط کرنے کے لیے روزانہ چند ہفتے تک ہلکے گرم زیتون کے تیل میں تھوڑی دیر ہاتھوں کے ناخنوں کو ڈبو کر رکھیں۔
-59بدہضمی اور بھاری پن سے بچنے کے لیے کھانا کھانے کے بعد تھوڑا سا گڑ سویٹ ڈش کے طور پر لیں۔
-60دانتوں میں خون آنے سے روکنے کے لیے ایک لیموں کا رس اور ایک کپ نیم گرم پانی اور آدھا چمچ نمک ملا کر صبح و شام غرارے کریں۔
-61پھنسیوں پر فالسے کے پتے باریک پیس کر لگانے سے پھنسیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
-62قے روکنے کے لیے چھوٹی الائچی یا املی کا استعمال کریں۔
-63چھوٹے بچے، نمکول کا پانی نہ پئیں تو دو چمچ شہد، آدھا چمچ نمک ۔ ایک چمچ چینی اور تین چار قطرے لیموں ڈال کر دوگلاس پانی میں حل کر گھریلو نمکول بنائیں اور اسہال اور قے کی صورت میں بچوں کو دیں۔
-64ہاتھ جلنے کے صورت میں متاثرہ جگہ گاجر پیس کر اس کا لیپ لگائیں۔
-65بھاپ سے ہاتھ جل جائے تو متاثرہ جگہ آلو کے ٹکڑے کاٹ کر ملیں۔
-66آملہ کا مربہ کھانے سے بار بار نکسیر آنا بند ہو جاتی ہے۔
-67پیٹ میں شدید درد روکنے کے لیے بڑی الائچی، دار چینی، سونف، پودینہ کا قہوہ بنا کر پئیں۔
-68آواز بیٹھ جائے تو نیم گرم پانی میں ہلکا نمک ملا کر غرارے کریں یا ملٹھی چبائیں۔ ادرک کے رس میں شہد ملا کر چاٹنے سے بھی گلا ٹھیک ہو جاتا ہے۔
-69انجیر کھانے سے منہ کی بدبو دور ہو جاتی ہے۔
-70ٹیکہ کی جگہ سوجنے کی صورت میں برف سے ٹکور کریں۔
-71آنکھوں کو طراوت دینے کے لیے کچی گاجروں کا استعمال زیادہ کریں۔
-72سبز دھنیے کا عرق چھالوں پر لگانے سے چھالے دور جاتے ہیں۔
-73دانتوں میں درد دور کرنے کے لیے لونگ پیس کر لیموں کے رس میں ملا کر درد والی جگہ پر لگائیں۔
-74خراب اور کٹے پھٹے ہونٹ ٹھیک کرنے کے لیے گلاب کا پھول آدھا پیس کر اس میں ذرا سا مکھن لگا کر ایک ہفتہ تک ہونٹوں پر لیپ کریں۔
-75زخموں میں پیپ آنے کو روکنے کے لیے دو سے تین جاپانی پھل روزانہ کھائیں۔
-76جسمانی کمزوری دور کرنے اور وزن میں اضافہ کرنے کے لیے روزانہ دودھ کا ملک شیک لیں۔ رات کو گیارہ بادام اور ایک چمچ کشمش آدھی پیالی پانی میں بھگو کر صبح بادام اور کشمش کے دانے کھا کر بچا ہوا پانی پی لیں۔
-77لیکیوریا اور ٹانگوں میں مستقل درد ختم کرنے کے لیے روزانہ تین ہفتے تک صبح کے وقت سات بادام لیں۔
-78آپریشن وغیرہ کے زخم کے نشان دور کرنے کے لیے گھیکوار کے گودے میں تھوڑا سا زیتون کا تیل ڈال کرکے گرم کر کے روزانہ لگائیں۔
-79ہاتھوں میں کھجلی اور خارش روکنے کے لیے گھیا (لوکی) کچل کر صبح شام اس کا رس ہاتھوں پر اچھی طرح ملیں۔
-80دل کی گھبراہٹ دور کرنے اور ہائی بلڈ پریشر روکنے کے لیے ایک پیالی خالص شہد، پھلوں کا سرکہ ایک پیالی اور دیسی لہسن (آٹھ دانے) تینوں کو گرائینڈر میں اچھی طرح پیس کر ملا کر فریج میں رکھ دیں ایک ہفتے بعد صبح و شام ایک چمچ لیں۔
-81سر کی خشکی دور کرنے کے لیے چقندر کے پتے ابال کر روزانہ سر دھوئیں۔
-82موسم گرما میں پیشاب کی جلن اور رکاوٹ دور کرنے کے لیے ’’گرما‘‘ استعمال کریں۔
-83جلنے کی صورت میں متاثرہ جگہ پر فوری طور پر کاسٹر آئل لگائیں۔
-84خارش دور کرنے کے لیے ناریل کے تیل میں کافور ملا کر خارش زدہ جگہ پر لگائیں۔
-85شہد کی مکھی یا بھڑ کے کاٹنے کی صورت میں نمک سرکہ میں ملا کر متاثرہ جگہ پر لگا کر ڈنگ نکال دیں۔ درد اور سوجن کم ہو جائے گی۔
-86آدھے سرکے درد کو دور کرنے کے لیے لیموں کے چھلکے پیس کر اس میں زیتون کا تیل ملا کر سر پہ لیپ کریں۔
-87نیند نہ آتی ہو تو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر خالص سرسوں کے تیل کی مالش کریں اور دو چمچ شہد لیں۔
-88سخت ہاتھوں کو نرم و ملائم کرنے کے لیے رات کو سونے سے پہلے لیموں کا عرق اور گلیسرین ملا کر ہاتھوں پر ملیں۔
-89منہ کی بدبو دور کرنے کے لیے دن میں دو تین بار سونف چبائیے اور اس کا عرق نگل لیں۔
-90آواز بیٹھ جائے تو ایک گلاس پانی میں دو چمچ سونف ڈال کر اس کو پکائیں۔ چینی اور دار چینی بھی ڈال لیں۔ اس قہوہ کو دن میں دو تین بار استعمال کریں۔
-91جسم میں کسی جگہ کانٹا چبھ جائے تو تھوڑا ساگڑ لے کر اس میں پیاز کاٹ کر ملائیں اور متاثرہ جگہ پر باندھ دیں، کانٹا خود بخود نکل آئے گا۔
-92پاؤں کے چھالے دور کرنے کے لیے رات کو سوتے وقت آبلے پرانڈے کی سفیدی لگا لیں۔
-93لو لگنے کی صورت میں پیاز کارس، لیموں اور تھوڑا سا نمک ڈال کر پئیں۔
-94چھوٹے بچوں میں کھانسی ختم کرنے کے لیے تھوڑی سی کالی مرچ، الائچی پیس کر شہد کے آدھے چمچ میں ملا کر صبح و شام دیں۔
-95چہرے کی جھریاں دور کرنے کے لیے سوگرام عرق گلاب، 15 گرام روغن بادام پندرہ گرام پھٹکڑی لے کر چار انڈوں کی سفیدی میں ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں اور سوتے وقت اس سے چہرہ کی مالش کریں۔
-96چہرے کے کیل مہاسے دور کرنے کے لیے انڈے کی سفیدی پھینٹ کر چہرے پر پندرہ بیس منٹ کے لیے لگائیں، بعد میں صابن سے منہ دھو کر صاف کر لیں۔
-97زکام سے بچنے کے لیے قہوہ میں ادرک اور دار چینی ملا کر استعمال کریں۔
-98دانتوں کے کیڑے ختم کرنے کے لیے، چنبیلی کے پتے پانی میں ابال لیں اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر غرارے کریں۔
-99صبح چاق چوبند اور ترو تازہ رہنے کے لیے ایک پیالی گرم دودھ میں ایک چمچ شہد ڈال کر سونے سے پہلے روزانہ لیں۔
-100 بار بار پیشاب آنے سے روکنے کے لیے سونے سے پہلے اخروٹ کھائیں۔ چھوٹے بچوں کا سوتے میں پیشاب نکل جاتا ہو تو انہیں سونے سے پہلے تل کے لڈو یا باجرے کی کھچڑے کھلائیں۔

Monday, October 30, 2017

خارش، ایگزیما اور سورائسز سے شفا بخشی اور مریضوں کا اعتراف (ایڈیٹر کے قلم سے)
(قارئین آپ کے لئے قیمتی موتی چن کر لاتا ہوں اور چھپاتا نہیں، آپ بھی سخی بنیں اور ضرور لکھیں) داد، چنبل یعنی ایگزیما اور سورائسز کیلئے ابتک بے شمار نسخے آزمائے۔کبھی فائدہ دے جاتے اور کبھی فائدہ نہیں ہوتا۔ عرصہ دراز سے متلاشی تھا کہ کوئی ایسی چیز، جو کہ سو فیصد فائدہ مند ہو اور جس سے لوگوں کو مکمل شفا یا بی ملے۔ ایک پرانے طبی رسالہ جس کا نام مستانہ جوگی تھا۔ یہ وہ رسالہ ہے جس کی دھوم تقسیم ہند سے پہلے پورے برصغیر میں تھی۔ رسالہ کی اشاعت سے قبل ہی اس کا انتظار کیا جاتا تھا۔ کیونکہ اس رسالہ میں نہایت تجربہ شدہ اور تصدیق یافتہ آزمودہ طبی تجربات ومشاہدات شائع ہوتے تھے۔ بڑے بڑے سنیاسی، سادھو ، جنگلوں کے باسی اور گرواپنے تجربات اور مشاہدات لوگوں تک پہنچاتے تھے یوں اس کی سرکولیشن بہت زیادہ تھی اور ہاتھوں ہاتھ چلتا تھا۔ میرے پاس ایک بچی کو لایا گیا۔ ابھی دور ہی تھی کہ اس کے جسم سے پیپ اور ریشہ کی وجہ سے سخت عفونت آرہی تھی۔ سانس دبا کر بہت مشکل سے اس کا معائنہ کیا اس کے والد جو کہ ایک محکمہ میںڈائریکٹر تھے اپنی پوری کوششیں اور ادویات استعمال میں لا چکے تھے۔ بچی جوان تھی۔ موصوف کو شادی کی فکر لاحق تھی۔ کہنے لگے کہ بیماری کو تقریباً سوا دوسال ہوئے ہیں اس سے پہلے اس کی منگنی اس کے کزن سے ہو چکی تھی لیکن بیماری کے بعد وہ منگنی ٹوٹ گئی۔ وہ شخص اس بچی سے شادی کرنے پر بضد اور سارے خاندان کی مخالفت حتی کہ گھر والوں کی مخالفت مول لے کر بھی اس بچی کو کسی شکل میں چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔ مگر ہم نے صاف انکار کر دیا۔ کیونکہ مریضہ کا تمام جسم عفونت اور پیپ سے بھرا ہوا تھا۔ جو کہ ہر وقت اس کے جسم سے نکل رہی تھی۔ اس غم کی وجہ سے مریضہ کے والد دل اور شوگر کے مریض بن گئے۔ کہنے لگے ایک انجکشن کا ری ایکشن ہوا ہے پہلے تو خوب اینٹی بائیوٹک دی حتیٰ کہ قیمتی سے قیمتی مرہمیں استعمال کرائیں کچھ رشتہ دار یورپ امریکہ میں رہتے ہیں انہوں نے ہزاروں ڈالر اور پونڈوں کی قیمتی کریمیں بھیجیں لیکن ان سب کا فائدہ اس وقت تک ہوتا تھاجب تک استعمال کریں۔ اس تشویشناک حالت کو دیکھ کر واقعی میرا دل بھر آیا۔ اندرونی طور پر مریضہ کو شربت عناب دو بڑے چمچہ دن میں 4بار استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور بیرونی طور پر یہ مرھم لگانے کو دی کہ زخموں کو دھوکر صبح وشام یہ مرہم اچھی طرح لگائی جائے۔ قارئین یقین جانئے صرف دو ہفتے کے استعمال سے مریضہ اسی فیصد تندرست ہوگئی جلد میں نکھار پیدا ہوگیا بدبو، پیپ اور ریشہ بالکل خشک ہوگیا۔ میں نے ان سے عرض کیا جس کسی اسپشلسٹ کی دوائی آپ گذشتہ سوا دوسال سے استعمال کر رہے تھے اس کو جاکر یہ مریض دکھائیں۔ وہ جب اس مریض کو لیکر گئے تو اس مخلص ڈاکٹر نے بہت حیرت کا اظہار کیا اور ان سے تھوڑی سی وہ دوا اور شربت لے لیا کہ میں اسے ٹیسٹ کرواﺅں گا اور ان مریضوں سے کہنے لگا کہ چونکہ یہ ایک حکیم کا نسخہ ہے وہ کسی شکل میں نسخہ دینے کو تیار نہیں ہوگا۔ تو لہذا میں اسے PCSIR لیبارٹری میں چیک کراکر یہ کریم اپنے مریضوں کو استعمال کرواﺅنگا۔ جب مریضوں نے مجھے آکر یہ بات بتائی میں نے اس مرھم کا مکمل نسخہ ترکیب سمیت لکھ کر دے دیا اور پیغام بھیجا کہ آج سے ستر سال پہلے ایک رسالہ سے مجھے یہ نسخہ ملا ہے۔ اگر وہ بخیل ہوتا تو یہ نسخہ رسالہ میں شائع کیوں کرتا۔ اور دوسرا تجربہ میری ذات کا ہے کہ میں بھی چھوٹے حکیموں میں شمار ہوتا ہوں۔ اور میں نے بھی یہ نسخہ آپ سے نہیں چھپایا۔ لہذایہ غلط فہمی ہے کہ حکیم نسخہ چھپاتے ہیں۔ کیونکہ چند لوگوں کے عمل کا اطلاق سب پہ نہیں ہوتا۔ قارئین میرے پاس پرانی خارش کے ایسے مریض آئے جن کی وجہ سے تمام گھر اس مرض کی لپٹ میں آچکا تھا راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی تھی۔ بلکہ مجھے ایک صاحب نے غمزدہ لہجے میں بتایا کہ پہلے پڑوسیوں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے۔ لیکن جب سے ہمارے بچوں کو تکلیف شروع ہوئی ہے۔ دوسرے بچے ہمارے بچوں کو قریب تک نہیں آنے دیتے حتیٰ کہ ملنے جلنے والی عورتیں اور پڑوسی بھی ہم سے کنارہ کرتے ہیں۔میں نے جب بھی ایسے لوگوں کو جو خاندان بھر کی خارش میں مبتلا تھے یہی مرہم استعمال کرائی تو بہت زود اثر فائدہ ہوا اور مریض تندرست ہوگئے۔ ایک صاحب خارش کی مرہم زخموں کے علاج حتٰی کہ داد چنبل کے علاج میںبہت ماہر مانے جاتے ہیں۔ جب ان سے ملاقات ہوئی اور نسخہ کا تذکرہ ہوا تونسخہ کے ملتے ہی جب اجزاءپر نظر ڈالی تو میرے اور ان کے نسخہ میں صرف ایک جز کا فرق تھا۔ ان کا ایک جز کم تھا اور میرا ایک زیادہ۔ آپ یقین جانئیے میں نے جب بھی یہ مرہم دی ہے تو یقین اوربھروسہ سے دی ہے کہ انشاءاللہ ضرور بالضرور فائدہ ہوگا اور لوگوں کا فائدہ ہوا بھی اور ہو بھی رہا ہے۔ ایسی خواتین حتیٰ کہ چہرے پر کیل مہاسے دانے تھے جب انہوں نے مستقل استعمال کیا تو چہرہ شفاف ہوگیا۔ کیل مہاسے اور دانے ختم ہوگئے ایسے لوگ جن کے پاﺅں کی انگلیوں کے درمیان اکثر انفکیشن ہو جاتا ہے انہیں اس دوائی نے بہت فائدہ دیا۔ اور ان کی جلد نارمل ہوگئی۔ ھوا لشافی زنک آکسائیڈ 20گرام، بورک ایسڈ 20 گرام ، گندھک آملہ سار10 گرام، سیلی سلک ایسڈ 20 گرام، کاربالک ایسڈ 5 گرام، ویزلین سادہ 200 گرام۔ آپس میں ملا کر خوب اچھی طرح حل کر لیں۔ حل کرنے سے قبل مذکورہ ادویات باریک پیس لیں اور کسی ڈبہ میں محفوظ رکھیں۔ تھوڑی سی مرہم لیکر جسم پر اچھی طرح ملیں اگر صبح ملیں تو شام کو اگر شام کو ملیں تو صبح غسل کرسکتے ہیں۔ اگر غسل نہ بھی کر سکیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔

Tuesday, October 3, 2017

لاہور (حکیم محمد عثمان)دل کے لئے تقویت کا باعث بننے والی بہت سی جڑی بوٹیوں اور پھلوں کا طب نبوی ﷺ میں ذکر ملتا ہے ۔بہی (Quince)بھی ایسا پھل ہے جو آڑواور سیب سے مشابہہ ہے اور اسکا احادیث کافی ذکر موجود ہے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بہی کھانے والی خواتین خوبصورت بچے پیدا کرتی ہیں۔مردوں میں چالیس افراد کے برابر قوت عود آتی ہے۔اس میں بیک وقت کئی طرح کے وٹامن اور معدنیا ت شامل ہیں ۔بہی کا مربہ اس حوالے سے بہترین غذا ہے جو نہار منہ کھایا جائے تو دل کے عوارض سے بچاتا ہے۔
ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓسے روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔آپﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی‘ مجھے دیکھ کر آپﷺ نے فرمایا‘ آجا طلحہ اسے لے لو اس لئے کہ یہ دل کو تقویت پہنچاتی ہے“اسی حدیث کو نسائی نے دوسرے طریقہ سے بیان کیا ہے”طلحہ نے بیان کیا کہ میں خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوا نبیﷺ صحابہؓ کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف فرما تھے‘ آپﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی تھی جس کو الٹ پلٹ کررہے تھے‘ جب میں آپﷺ کے پاس بیٹھ گیا تو آپﷺ نے بہی میری طرف بڑھائی پھر فرمایا کہ ابو ذر اس کو لے لو، اس لئے کہ یہ مقوی قلب ہے سانس کو خوشگوار کرتی ہے اور سینے کی گرانی دور کرتی ہے“
بہی کے حوالے سے بہت سی احادیث موجود ہیں۔ایک حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اپنی حاملہ عورتوں کو بہی کھلایا کرو کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے اور لڑکے کو حسین بناتا ہے“
حضرت عوف رضی اللہ عنہ بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” بہی کھاو ¿ کہ یہ دل کے دورے کو ٹھیک کرتا اور دل کو مضبوط کرتا ہے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” بہی کھاو ¿ کہ دل کے دورے کو دور کرتاہے۔ اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں مامور فرمایا جسے جنت کا بہی نہ کھلایا ہو کیونکہ یہ فرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے“
بہی کو عربی میں سفر جل کہتے ہیں۔اسکی سب سے زیادہ کاشت ترکی میں ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی پہاڑی علاقوں میں دستیاب ہے۔تاہم پاکستان کے سوا دیگر ممالک میں اسکی کاشت تجارتی پیمانے پر ہوتی ہے۔
اطبا کا کہنا ہے کہ بہی کا مزاج بارد یابس ہے اور ذائقہ کے اعتبار سے اس کا مزاج بھی بدلتا رہتا ہے مگر تمام بہی سرد اور قابض ہوتی ہیں‘ معدہ کے لئے موزوں ہے‘ شیریں بہی میں برودت و یبوست کم ہوتی اور زیادہ معتدل ہوتی ہے ۔ترش بہی کھانے سے قبض اور خشکی پید اہوتی ہے۔ بہی کی ساری قسمیں تشنگی کو بجھادیتی ہیں اور قے کو روکتی ہیں۔ پیشاب آوراور پاخانہ بستہ کرتی ہے‘آنتوں کے زخم کے لئے نافع ہے۔ اس کا مربہ معدہ اور جگر کو تقویت پہنچاتا ‘دل کو مضبوط کرتا اور سانسوں کو خوشگوار بناتا ہے۔

Wednesday, June 28, 2017


ایک جڑی بوٹی جسے منہ میں رکھنے سے آپ کو نہ صرف دانتوں کے کیڑوں سے نجات مل جائے گی بلکہ کبھی معدے کی تیزابیت کا شکار بھی نہ ہوں گے

پیریس(نیوزڈیسک) دانت کے درد کی وجہ سے انسان ہر کام بھول جاتا ہے اور اس سے چھٹکارے کے لئے کڑوی سے کڑوی دوائی کھانے کو بھی تیارہوجاتا ہے۔انٹی بائیوٹکس اور درد کش ادویات کی وجہ سے دانت کی سوزش یا اس میں لگا کیڑا تو کم ہوجاتی ہے لیکن ساتھ ہی دیگر مسائل میں اضافہ ہوجاتا ہے جیسے معدہ خراب ہونا یا مدافعتی نظام کی کمزوری۔کیا ہی اچھا ہو کہ ہمیں کوئی ایسا قدرتی طریقہ مل جائے جس میں نہ کوئی نقصان ہو اور نہ کوئی کڑوی دوائی کھانی پڑے تو آئیے آپ کو ایک ایسا قدرتی میٹھا نسخہ بتاتے ہیں اور یہ ملیٹھی ہے جس کی وجہ سے آپ کے دانت کا درد ٹھیک ہوگا۔



ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ملیٹھی دانتوں کے درد اور ان کی سڑن کے لئے انتہائی مفید پائی گئی ہے۔اس کے استعمال سے دانتوں میں موجود بیکٹیریا کم ہونے سے درد اور سوزش میں کمی آتی ہے۔ہمارامنہ مختلف طرح کے بیکٹیریا کا گھر ہے جس کی وجہ ہمارا کئی طرح کے کھانوں کا استعمال ہے اور ان بیکٹیریا کی وجہ سے دانت سڑنے لگتے ہیں اور ان میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ایک بیکٹیریا جس کا نام streptococcus mutansبتایا جاتا ہے صرف چینی پر زندہ رہتا ہے اور جب بھی اسے چینی ملتی ہے یہ کھاکر ایک فضلہ خارج کرتا ہے جس میں تیزابی مادے زیادہ ہوتے ہیں اور یوں ہمارے دانت سڑن کا شکار ہوجاتے ہیں۔اسی طرح ایک اور بیکٹیریا اپنے اردگرد ایک گھیرا سابناکر رہتا ہے جس کی وجہ سے کوئی چیز بھی اسے ختم نہیں کرپاتی۔ملیٹھی میں دو طرح کے اجزاءپائے جاتے ہیں جنہیں licoricidinاورlicorisoflavanکہاجاتا ہے اور ان کی وجہ سے ان انزائمز کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے جو بیکٹیریا کو اپنے گرد ایک گھیرا بنانے میں مدد دیتا ہے اور اس طرح دانت کی سڑن کم ہوتی ہے۔

دانتوں کے درد کے لئے ملیٹھی کا استعمال
گولیوں یا ٹافیوں میں جو ملیٹھی استعمال کی جاتی ہے وہ ایک ذائقہ ہوتا ہے اور اس کا اصل ملیٹھی سے کوئی تعلق نہیں۔اگر آپ یہ گولیاں کھاکر امید کرتے ہیں کہ آپ کے دانت کا درد ٹھیک ہوجائے گا تو آپ کا خیال غلط ہے۔کوشش کریں کہ آپ کو ملیٹھی کی ایک تازہ جڑ مل جائے یا کوئی پرانی ملیٹھی کی جڑ بھی کام دے گی۔اب اسے اپنے منہ میں رکھ کر چبائیں اور تب تک ایسا کرتے رہیں جب تک جڑ کے ریشے نظر نہ آنے لگیںاور یہ مسواک کی طرح نہ دکھنے گے۔ اب ان ریشوں سے دانتوں کو صاف کریں اور جس جگہ درد ہواس پر بھی آرام سے ملیں،آپ دیکھیں گے کہ کچھ ہی دنوں میں آپ کے دانت کی درد کم ہوچکی ہے ۔
ملیٹھی اور گلے کی سوزش وزکام
زمانہ قدیم ہی سے ملیٹھی کو زکام، نزلہ، گلے کی سوزش اور خراش کو ٹھیک کرنے کے ئے استعمال کیا جارہا ہے۔مصری تہذیب کے لوگ بھی اسے اپنی گلے کی سوزش کی ادویات کی تیاری میں استعمال کرتے تھے۔ایک تازہ تحقیق میں سگریت نوش افراد کو ملیٹھی کھانے کو دی گئی اور یہ بات سامنے آئی کہ اس کی وجہ سے ان کی کھانسی اور بلغم میں کمی ہوئی۔اگر آپ بھی گلے کی خراش اور کھانسی کا شکار ہیں تو ملیٹھی کی جڑ کو پانی میں ابالیں اور اس میں چند قطرے شہد ملاکر پینے سے آپ کو کافی ااام ملے گا۔
جسمانی سوزش کے لئے
ہمارے کھانے پینے اور چلنے پھرنے کی عادات کی وجہ سے جسم میں سوزش بڑھتی ہے جس کی وجہ سے سر میں درد اور سوزش کی شکایت رہتی ہے لیکن اگر ملیٹھی کا استعمال کیا جائے تو کافی افاقہ ہوتا ہے۔Natural Product Communications Journalمیں شائیع ہونی والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملیٹھی آئی بو پروفین سے زیادہ کارآمد اور دردوں کو کم کرنے میں اہم کرداد ادا کرتی ہے۔
سینے کی جلن
ملیٹھی والی چائے کی وجہ سے سینے کی جلن ،گیس، معدے میں درد اور جی متلانے والی علامات کو ٹھیک کیاجاسکتا ہے۔ملیٹھی کو ابلے ہوئے ہانی میں ڈالیں اور چند منٹوں بعد اسے نطار کر پی لیں۔یہ عمل دو سے تین دن تک کرنے کے بعد آپ کو سینے کی جلن سے راحت ملے گی۔

آپ نے گورکھ پان کی چائے نہیں پی تو ایک بار پی کر دیکھیں ،یہ جڑی بوٹی آپ کو سُپر فٹ کردے گی،ایک نادر نسخہ

کنجاہ (حکیم حافظ اللہ والے ) پنڈت کرشن کنوردت شرما کی کتاب ”عرب کا چاند “ میں گورکھ پان کی چائے کا نسخہ پیش کیا گیا تھا جسے مجربات کی زبان میں حیرت العقول دوا سمجھا جاتا ہے۔
گورکھ پان انڈو پاک کی عام دستیاب ہونے والی جڑی بوٹی ہے جس کی خوشبو سبز چائے سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ پنجاب کے بعض علاقوں میں اسکوپنا چنی‘ چڑی پنجہ‘ کتھوی اور پانا بوٹی بھی کہا جاتا ہے،انگریزی میں اسکا بوٹنیکل نام heliotropium strigosum ہے ۔خاص طور پر ساون بھادوں میں جوار باجرہ کے کھیتوں میں ملتی ہے ۔ اس کا پودا چار انگلی اونچا زمین پر پھیلا ہوتا ہے۔ اسکے پتے چڑیا کے پنجے کی طرح باریک باریک اور تین تین ملے ہوتے ہیں ۔
گورکھ پان کی بہترین چائے اور فوائدایک زمانے میں یہ برسات کے موسم میں مینارِ پاکستان کے ارد گرد عام ہواگا کرتی تھی اور جو لوگ اسکے طبی فوائد جانتے تھے وہ اسکی چائے بنا کر خونی اور بادی بواسیر کے علاج کے لئے استعمال کرتے تھے۔گورکھ پان بوٹی کی چائے لمبی عمر کا بہترین نسخہ ہے۔جگر کی اصلاح کرتی،نظر بحال کرکے تیز کرتی ، صالح خون پیدا کرتی ۔ مقوی معدہ اوربھوک لگاتی ہے۔ پیشاب کی جلن دور کرتی ہے۔ تھکاوٹ دور کرنے کے لیے عام چائے کی نسبت گورکھ پان کی چائے زیادہ مفید ہے۔ اطبا کہتے ہیں کہ گورکھ پان کے پھول یا پتیاں تازہ یا خشک ۱ تا ۲ ماشہ فی پیالی کے حساب سے چائے دانی میں ڈالیں اور پانچ سات منٹ تک پانی کو جوش دیں۔ جب سرخی مائل رنگ جھلکنے لگے تو اتار لیں۔ موسم سرما میں اگر اس میں دارچینی، لونگ اور الائچی کلاں شامل کر لیں تو اور بھی مفید ہے۔ گورکھ پان کی

Wednesday, June 21, 2017


 ریحان   ] یا تلسی یہ دو اکھائیں یا سونگھیں، اسکو جنت سے زمین پر اتار گیا ہے

ملتان(حکیم صو فی جاوید) خوشبو سے علاج صدیوں سے رائج ہے۔جس کے لئے کئی طرح کے پودوں اور جڑی بوٹیوں کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔اج روما تھیراپی اسی فن کی جدید اور سائنٹفک شکل ہے۔ریحان ایک ایسا ہی پودا ہے جسے تلسی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔یہ خوشبودار پوداہے۔اس کا تعلق پودینہ کے خاندان سے ہے ،۔یہ طب نبوی ﷺ کی خوشبودار دوا ہے ۔اس کا قرآن مجید میں ذکر یوں کیاگیا ہے ’’چنانچہ اگر وہ مقرب بندوں میں سے ہے تو عیش و آرام خوشبو اور نعمتوں کا باغ ہے‘‘
بخاری و مسلم کی ایک حدیث کے مطابق نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ"جس کسی کو ریحان پیش کیا جائے وہ اس کو لینے سے انکار نہ کرے کیونکہ یہ اپنی خوشبو میں نہایت عمدہ اور وزن میں ہلکا ہوتا ہے۔‘‘
سنن ابن ماجہ میں حضرت اسامہؓ کی حدیث نبی کریمﷺ سے مروی ہے ’’کوئی ہے جو اپنے آپ کو جنت کے لئے تیار کرے‘ اس لئے کہ جنت کے لئے کوئی خوف وخطر نہیں‘ ربّ کعبہ کی قسم یہ جنت درخشاں نور‘ متحرک‘ خوشبو‘ بلند و بالا محل‘ بہتی نہر اور پختہ پھل ہے‘ اور خوش سیرت حسین وجمیل بیوی طرح طرح کے ملبوسات ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نعمتوں کے ڈھیر نگاہوں کی شادابی وشگفتگی اور بلند وبالا بارونق مکانات کا نام ہے۔ صحابہؓ نے فوراً کہا‘ ہاں اے رسول اللہ ہم لوگ اس کے لئے تیار ہیں‘ آپﷺ نے فرمایا کہ انشاء اللہ کہو‘ چنانچہ تمام لوگوں نے انشاء اللہ کہا‘‘
تحقیقات کے مطابق ریحان ہر عمدہ خوشگوار اور خوشبو دار پودے کو بھی کہاجاتا ہے ‘ ہر علاقہ کے لوگ اپنے لئے کوئی نہ کوئی خوشبو خاص کرلیتے ہیں‘ مغربی ممالک کے لوگ آس کی خوشبو پسند کرتے ہیں‘ اسی کو عرب والے ریحان کے نام سے جانتے ہیں‘ اور پسند کرتے ہیں‘ عراق اور شام کے باشندے پودینہ کی خوشبو پسند کرتے ہیں۔
تلسی (ریحان )کی 160 سے زیادہ اقسام ہیں ۔اور ہر قسم میں قدرے فرق کے ساتھ الگ قسم کی خصوصیات ہیں۔ریحان یا تلسی کا پودا ،انڈونیشیا ، ملائشیا ،تھائی لینڈ ، ویت نام ، لاؤس ، کمبوڈیا اور تائیوان میں بھی بڑا مقبول ہے۔ یورپ میں بھی اس کی مقبولیت کچھ کم نہیں۔ اسے قدرتی دواؤں کی ماں اور جڑی بوٹیوں کی ملکہ کا خطاب بھی دیا جاتا ہے۔ہندو تو تلسی کے نام سے عبادت کا حصہ سمجھتے ہیں۔ چینی اپنے کھانوں اور سوپ میں اسے تازہ اور خشک حالت میں استعمال کرتے ہیں۔تائیوان میں لوگ اسے سوپ کو گاڑا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ تھائی تلسی دودھ اور کریم میں ڈالی جاتی ہے اس سے بننے والی آئس کریم کا ذائقہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ 
تلسی میں بہت سے کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں ان میں الفا اور بیٹا پنین ، کیمفین ، مائرسین ، لیمونین ، سس اوسمین ، کافور ، لینالول ، میتھائل چیوول ، وائی ٹرپائنول ،سٹرونیلول ،جرینیول ،میتھائل سنامیٹ ، اور ایوگینول شامل ہیں۔ 
اطباء نے اسے مقوی قلب ، مفرح قلب ،آنتوں کی خشکی دور کرنے والا ، دافع عفونت دافع بخار، اور ہاضم بتایا ہے۔اس لئے اسے دل کی گھبراہٹ ،نزلہ زکام اور کھانسی ، تیزابیت معدہ پیٹ درد ، بھوک کی کمی ، اسہال اور بخاورں میں استعمال کرتے ہیں۔ایورویدک میں اسے اکسیر کہا جاتا ہے۔اس کے پتے او ر بیج دونوں بطور دوا استعمال ہوتے ہیں۔ مرکزی اعصابی نظام پْر سکون اثرات ڈال کر نہ صرف ڈیپریشن، کھچاؤ، تناؤ ، بے چینی ،خفگی دور کرنے میں مفید ہے بلکہ ان امراض سے تحفط کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہ تھکاوٹ دور کرتی ہے۔ سر درد خصوصاً درد شقیقہ میں اس کا استعمال مفید ہے۔یہ اعصاب کوتقویت دے کر یادداشت کو بہتر بناتی ہے۔تلسی خون میں کولیسٹرول کی سطح کوکم کرتی ہے اور دل کے مرض میں ہونے والی کمزوری کو بھی رفع کرتی ہے۔اس میں موجود پوٹاشیم بلڈپریشر کوکم کرتا ہے۔ جبکہ اس میں پایا جانے والا میگنشیئم قلبی صحت کو فروغ دینے کیلئے جانا جاتا ہے۔ یہ دل کی شریانوں کی حفاظت کرتے ہوئے خون کی بے قاعدہ روانی کو ختم کرکے آزاد بہاؤ کی اجازت دیتا ہے۔