UCLkHN_A8TPz3oNUjsSrEgUg

Sunday, February 5, 2017

7دنوں میں 7کلو وزن کم کرنے کا آسان ترین طریقہ جس نے بھی آزمایا عش عش کر اٹھا


لندن(نیوزڈیسک) بعض اوقات وزن کم کرنے کی خواہش میںانسان مشکل ورزشیں کرتا ہے اور کھانے کے معمولات اور مقدار کو بھی تبدیل کردیتا ہے۔آئیے آپ کو ایک آسان قدرتی نسخہ بتاتے ہیں جس پر عمل کرکے آپ صرف سات دنوں میں7کلووزن کم کرلیں گے۔یہ غذا کھیرے سے تیار کی جائے گی،کھیروں میں فائبر، میگنیشیم، زنک، کیلشیم، وٹامن بی، سی اور ای پایاجاتا ہے اورجسم کو متوازن غذا ملنے سے جسم چاک و چوبند رہتا ہے اور کھانے کی خواہش میں کمی سے وزن کم ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے جسم سے زہریلامادے نکلنے لگتے ہیں اور ساتھ ہی جسم سے پانی کی اضافی مقدار کم ہوتی ہے۔آئیے آپ کو کھیرے کے بہترین استعمال کے طریقے بتاتے ہیں۔
ناشتہ:دو ابلے ہوئے انڈے اور کھیروں کا ایک باﺅل
لنچ:ایک ٹوسٹ کے ساتھ کھیروں کی سلاد
ڈنر:اپنی پسند کے پھل 300گرام 
کھیروں کی سلاد بنانے کا طریقہ
400گرام کھیرے
200ملی لیٹر دہی 
چٹکی نمک
ایک پیاز
تیاری کا طریقہ
کھیروں کو چھیل لیں اور پھر اس میں دہی،نمک ارورپیاز شامل کریں۔آپ چاہیں تو کھانوں کے درمیان کھیرے کا شیک بھی پی سکتے ہیں۔
کھیرے کا شیک بنانے کا طریقہ
ایک کھیرا
ایک سیب
تھوڑی سی پالک
تمام اجزاءکو بلینڈر میں ڈالیں اور اچھی طرح مکس کریں۔اب اسے گلاس میں ڈال کر نوش کریں۔
نوٹ:اوپر بتائے گئے طریقوں پرسختی سے عمل کرکے آپ 7دنوں میں7کلو وزن کم کرلیں گے۔

Saturday, February 4, 2017

I always salty sea water? A godly wisdom
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,, ,,,,,,,,,,,,,,
The sun had risen. We wandered floating clouds gyy.knk winds reach glance tha.tahd charming beach was mnzrkasa was thinking mhurbn extends smndrmyry
Why is sea water or salty snacks. Sea mdujzrky behind akrkya wisdom?
We do simple analysis. Rain aurbrf kapany the flow, various wild mountain tracks. It could include minerals and chemicals in your way. The fall in sfrtykrkysmndr various lakes rivers. Kytslsl fly away from tide water plants. The sea salts are a part. It continues to millions of years. The world's most saline smndrbhyrh mrdarkynam symshur. The Great Salt Lake is a lake called nmbrata. Locations of water is ten times more saline than normal seawater.
But the question is that God entered Why such a big sea salt. Hence, I have tested the following details
Dutb kept in the sun-filled water. Duklu poured salt in a tub. Other highlights a klucyny. The other evening I saw sweet vegetable water has become a breeding ground inclined aurmchrun tha.jbkh bhtrtha slightly salted water. I repeated the same experience but in the dialectical constructions barpany movement. The other day I had katyst brine water was perfectly fine. The fresh water had been damaged. Brine fltrkrky been recycled. After this experience divine strategy fully realized.
Agrsmndrun to be the sweet water. Seawater will leave more space so bad hukrtafn dyajay stop chain mdujz the world everyone will skarhujayyn deadly diseases. System becomes idle life. According to scientific research is an integral part of saltwater marine life. The marine rare herbs and grow thanks to the natural zkayrnmkyat. Gold silver seaweed "Coral" is rising salinity prpruan details. The spirit world is like the sea salt
Almighty has said, for hundreds of years still manages to keep the water safe, preserved
11. Pure water is evaporated from the krjrasym. In remote areas through the clouds are full of water and there is also demand equal groundwater balance
22 is auprlaya the lower level of the water by the strong winds. Which raises Space vortex. To fill that goes above the water below.
33 Specific routes to the sea. Both sides of the water where the water becomes a path in between is still the case bhth Nor is it moves elsewhere. It ships called "Cry".
44 by gravity and dialectical constructions attractive qmrky water is kept in motion. Fresh water that remains.
Allah is bhtrhkmt

ترجمہ
سمندروں کا پانی نمکین کیوں ہوتاہے ؟ ایک خدائی حکمت
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
سورج طلوع ہوچکا تھا. ہم ساحل سمندر پرپہنچ گئے.خنک ہواؤں میں تیرتے آوارہ بادلوں کا حسین منظرخاصا دلکش تھا.تاحد نگاہ پھیلا سمندرمیری سوچ کا محوربن گیا
سمندرکا پانی کھارا یا نمکین کیوں ہوتا ہے. سمندری مدوجزرکے پیچھے آخرکیا حکمت پوشیدہ ہے ؟
پہلے ہم عام سا تجزیہ کرتے ہیں. بارش اوربرف کاپانی جب مختلف جنگلی پہاڑی راستوں سےگزرتا ہے. اپنے راستے میں آنے والی معدنیات اور کیمیائی مرکبات شامل کرلیتا ہے. جو مختلف جھیلوں دریاؤں کا سفرطےکرکےسمندر میں جا گرتے ہیں. مدوجزر کےتسلسل سے پانی ہوامیں اڑجاتا ہے. جبکہ نمکیات سمندرکا حصہ بن جاتی ہیں. کروڑوں سال سے یہ سلسلہ جاری ہے. دنیا کا سب سے نمکین ترین سمندربحیرہ مردارکےنام سےمشہور ہے. اس کے بعد گریٹ سالٹ لیک نامی جھیل کا نمبرآتا ہے. ان مقامات کا پانی عام سمندری پانی سے دس گنا زیادہ نمکین ہے.
لیکن سوال یہ ہے کہ خدا نے اتنے بڑے سمندروں کو نمکین کیوں کررکھا ہے. اسی غرض سے میں نے ایک تجربہ کیا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں
میں نے پانی سے بھرے دوٹب دھوپ میں رکھ دیے. ایک ٹب میں دوکلو نمک ڈالا. دوسرے میں ایک کلوچینی ڈالی. دوسرے دن شام کودیکھا تو میٹھا پانی سبزی مائل اورمچھروں کی آماجگاہ بن چکا تھا.جبکہ نمکین پانی قدرے بہترتھا. میں نے اسی تجربہ کو دوبارہ دہرایا لیکن اس بارپانی کومسلسل حرکت میں رکھا. دوسرے دن پانی کاٹیسٹ کروایا تو نمکین پانی بالکل ٹھیک تھا. جبکہ میٹھا پانی خراب ہوچکا تھا. نمکین پانی فلٹرکرکے دوبارہ قابل استعمال کرلیا گیا. اس تجربہ کے بعد خدائی حکمت عملی بخوبی سمجھ آگئی.
اگرسمندروں کا پانی میٹھا کردیا جاۓ. مدوجز کاسلسلہ روک دیاجاۓ تو سمندری پانی خراب ہوکرتعفن زدہ فضا چھوڑے گا جس سے دنیاکے تمام لوگ مہلک بیماریوں کا شکارہوجائیں گے. نظام زندگی معطل ہوجاۓ گی. سائنسی تحقیق کے مطابق نمکین پانی سمندری حیات کا لازمی جزو ہے. علاوہ ازیں سمندری نایاب جڑی بوٹیاں اور قدرتی ذخائرنمکیات کی بدولت پرورش پاتے ہیں. سونے چاندی کی طرح قیمتی سمندری پودا " مرجان " نمکیاتی جزئیات پرپروان چڑھتا ہے. نمکین پانی سمندری دنیامیں روح جیسی اہمیت رکھتا ہے
رب کریم نے سینکڑوں سال بعد بھی پانی کوصحیح سالم رکھنے کیلۓ چار طرح کا انتظام فرمایا ہے
11- پانی کو بخارات بنا کرجراثیم سے پاک کیا جاتا ہے. بادلوں کے توسط سے دور دراز علاقوں میں پانی کی طلب پوری کی جاتی ہے نیز وہاں زمینی پانی کا بیلنس بھی برابرکیا جاتا ہے
22- تیز ہواؤں کے ذریعے پانی کی نیچلی سطح کو اوپرلایا جاتا ہے. جس سے خلائی بھنور پیدا ہوتے ہیں. جسے پرکرنے کیلۓ اوپری پانی نیچے چلا جاتا ہے.
33- سمندر میں مخصوص راستے ہیں. دونوں طرف پانی ساکت ہوتا ہے جبکہ درمیان میں ایک راستہ بن جاتا ہے جہاں سے پانی کا ایک حصہ نہرکی صورت بہتہ ہوا دوسری جگہ منتقل ہوجاتا ہے. اسے بحری " رو " کہتے ہیں.
44- کشش ثقل اور کشش قمرکے ذریعے پانی کومسلسل حرکت میں رکھا جاتا ہے. جس سے پانی کی تازگی برقرار رہتی ہے.
بےشک اللہ بہترحکمت والا ہے

Friday, February 3, 2017

      مونگ پھلی کھائیے اور لمبی عمر پائیے

لندن(آن لائن)مونگ پھلی کی افادیت کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں مونگ پھلی کے استعمال کو لمبی عمر کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ زیادہ مونگ پھلی اور گری دار خشک میوے کھانے والے لوگوں میں عارضہ قلب سے ہونے والی اموات کا خطرے کم تھا۔ آن لائن جریدہ \'جاما انٹرنیشنل میڈیسن\' میں اسی ہفتے شائع ہونے والی تحقیق امریکہ کی یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے وابستہ محقق ڈاکٹر ڑاؤ او شو نے خشک میوے اور موت کے خطرے کی شرح کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی ہے۔مطالعے کے مصنف ڑاؤ او شو نے کہا کہ ہماری تحقیق میں مونگ پھلی کھانے سے قلبی فوائد ظاہر ہوئے ہیں مطالعے میں جن لوگوں نے خشک میوے کے طور پرمونگ پھلی کھائی تھی ان میں مطالعے کی مدت کے دوران موت کا خطرہ ایسے لوگوں کی نسبت کم تھا جنھوں نے خشک میوہ کم استعمال کیا تھا یا بالکل نہیں کھایا تھا۔محقق ڑاؤ او شو نے کہا کہ مونگ پھلی اگرچہ خشک میوہ نہیں ہے اور اس کی درجہ بندی پھلی کے طور پر کی جاتی ہے لیکن اس کے غذائی اجزاء خشک میوے سے ملتے جلتے ہیں۔انھوں نے تجویز کیا ہے کہ جن لوگوں کو مونگ پھلی سے الرجی نہیں ہے انھیں دل کی صحت کے فوائد کے لیے زیادہ سے زیادہ مونگ پھلی کھانی چاہیئے جو دوسرے میووں کے مقابلے میں سستی بھی ہے۔ امریکی طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مونگ پھلی میں دیگر میوہ جات کی طرح انسانی صحت کے لیے بے شمار طبی اور غذائی فوائد چھپے ہیں اس میں اعلی درجہ کی پروٹین وافر مقدار میں موجود ہے جبکہ مونگ پھلی کا مفید روغن ،وٹامن ای ،نمکیات ،فائبر دل کی بیماریوں کے لیے قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔ مطالعے میں سائنسدانوں نے 70,000 سے زائد امریکیوں اور افریقہ کے لوگوں کے خوراک سے متعلق سوالنامہ کے اعداد وشمار کا تجزیہ کیا ہے اس کے علاوہ مطالعہ میں چین کے کم آمدنی والے 134,000 مرد اور خواتین کے کھانے پینے کی عادتوں کے بارے میں معلومات کا تجزیہ بھی شامل تھا۔امریکہ ،افریقہ اور چین کے مطالعوں کے شریک گروپوں میں عورتوں نے سب سے زیادہ مونگ پھلیاں کھائی تھیں۔نتیجہ سے یہ یات سامنے آئی کہ تینوں گروپ میں گری دار میوہ کل اموات اور دل کی بیماری \'سی وی ڈی\' سے موت کے کم خطرے کے ساتھ منسلک تھا۔ جبکہ تمام نسلی گروہوں میں زیادہ مونگ پھلیاں کھانے والوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ کم تھا اور یہ تعلق مردوں اور عورتوں دونوں میں ظاہر ہوا جو زیادہ مونگ پھلی کھاتے تھے۔امریکی مطالعہ کے گروپ کے تجزیہ سے نتیجہ ظاہر ہوا کہ جن لوگوں نے مطالعے کی چھ سالہ مدت کے دوران زیادہ مونگ پھلیاں کھائی تھیں ان میں موت کا خطرہ 21 فیصد تک کم تھا ان لوگوں کے مقابلے میں جو مونگ پھلیاں نہیں کھاتے تھے۔تجزیہ کاروں نے دیکھا کہ ایشیائی شرکاء کے مطالعے میں جن لوگوں گری دار میوے اور مونگ پھلیوں کا زیادہ استعمال کیا تھا ان میں موت کا خطرہ ایسے لوگوں کی نسبت 17 فی صد کم تھا جو بہت کم مونگ پھلیاں کھاتے تھے۔تاہم محقق نے کہاکہ مطالعے میں شامل لوگوں کو دن بھر میں 17 سے 18 گرام مونگ پھلی کھانے کی ضرورت تھی۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کچی مونگ پھلی کے مقابلے میں تلی ہوئی مونگ پھلی الرجی پیدا کر سکتی ہے جبکہ سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت پر تلنے کی وجہ سے مونگ پھلی میں کیمیائی تغیرات پیدا ہوتے ہیں جس سے انسان کا مدافعتی نظام زیادہ فعال ہو جاتا ہے اور الرجی کا ردعمل ظاہر ہو سکتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایشیائی ملکوں میں مونگ پھلی سے الرجی کی شرح بہت کم ہیاور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مونگ پھلیوں کو تلنے کے بجائے بھون کریا ابال کر کھانے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔

یہ قدرتی نسخہ استعمال کرکے آپ نزلہ و زکام اور کھانسی کو صرف ایک رات میں ختم کرسکتے ہیں

لندن(نیوزڈیسک) سرد ی اپنےعروج  پر ہے اور ایسے میں کھانسی،نزلہ وزکام اور ریشے کا ہونا ایک عام سی بات ہے۔اس سے بچنے کے لئے لوگ ادویات اور انٹی بائیوٹکس کا سہارا لیتے ہیں جن کا اپنا ایک سائیڈ ایفیکٹ ہے لیکن اگر آپ گھر میں موجود ادرک اورشہد کا استعمال کریں تو آپ اس تکلیف دہ بیماری سے صرف ایک رات میں نجات حاصل کرسکتے ہیں، یہ طریقہ بچوں کے لئے بہت ہی مفید پایا گیا ہے۔آئیے آپ کو طریقہ بتاتے ہیں۔
اجزاء
خالص شہد
نیپکن(ٹشو پیپر)
آٹا
ادرک کا تازہ رس
زیتون کا تیل
کپڑے کا ٹکڑا(پھاہا)
ناریل کا تیل
زخموں کے لئے ٹیپ
بنانے کا طریقہ
شہد اور آٹے کو ملاکر ایک پیسٹ بنالیںلیکن اسے ہاتھ نہ لگائیں۔اب اس کے اوپر ناریل کے تیل اور ادرک کے رس کے چند قطرے ڈالیں،اب اس میں مزید آٹاڈالیں۔اب اس مکسچر کو نیپکن پر ڈالیں اور پھر کپڑے میں لپیٹ دیں۔رات کو سونے سے پہلے اس کپڑے کو اپنے سینے اور کمر پر لگاکر اسے ٹیپ سے چپکادیں اور سوجائیں،اگلی صبح آپ اپنے اندر واضح تبدیلی محسوس کریں گے اور بہت حد تک کھانسی اور زکام سے نجات مل چکی ہوگی۔بچوں میں یہ کپڑے کا ٹکڑا دو سے تین گھنٹے تک لگائیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی جلد نازک ہوتی ہے اور زیادہ دیر تک یہ طریقہ ان کی جلد کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔

معدے کی تزابیت ختم کرنے کے لیے جادوئی مشروب تیار کرنے کا طریقہ

کنجاہ(نیوزڈیسک)معدے میں تیزابیت اور سینے کی جلن ایسے مسائل ہیں جو بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ ہمارے کھانے پینے کی عادات ہیں۔اگر ایسا مشروب مل جائے جو جو سینے کی جلن سے نجات دے اور معدے کی تیزابیت کم کردے تو یقیناًآپ ایسا مشروب ضرور پئیں گے۔آئیے آپ کو ایسا مشروب بنانے کے طریقہ بتاتے ہیں جو ہفتے میں ایک بار استعمال کرنے سے آپ کو سینے کی جلن سے نجات دے گا۔
ایک کپ کھیرا،آدھ کپ اناناس،تھوڑی سی اجوائن،آدھا لیموںاور کچھ ناریل پانی لیں۔تمام سخت اشیاءکو ایک کپ میں ڈال دیں،پھر اس میں ناریل پانی شامل  کر کے اچھی طرھ پیس لیں۔مزیدار مشروب تیار ہے۔ہفتے میں ایک بار اسے ضرور استعمال کریں۔
نیویارک(نیوزڈیسک)بد ہضمی، دائمی قبض اور سینے کی جلن بعض اوقات ایک ایسی خطرناک بیماری پر منتج ہوتی ہے جو ساری زندگی کے لئے ہمارا پیچھا کرتی ہے اور اس بیماری کا نام ہے بواسیر۔یہ وہ بیماری ہے جو انسان کو زندہ لاش میں تبدیل کردیتی ہے۔ لیکن اس بیماری سے بچنا ممکن ہے کیونکہ قدرت نے ایک ایسی شے پیدا کی ہے جس کے استعمال سے ہم بواسیر سے بچ سکتے ہیں۔یہ قدرتی نعمت مکئی یا کارن کے نام سے جانی جاتی ہے۔ آئیے آپ کو مکئی کے فوائد کے بارے میں بتاتے ہیں۔
*مکئی میں فائبر کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ ہمارے معدے کے لئے بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔
*مکئی میں موجودفائبر کی وجہ سے قبض کی شکایت نہیں ہوتی اور بواسیر کی متعدی بیماری بھی انسان سے دور رہتی ہے۔ایک کپ مکئی میں 18.4فیصدفائبر پایا جاتا ہے جو ہر طرح کے معدے کے مسئلہ کو حل کرتا ہے اور بواسیر سے بچاتا ہے۔اس کے استعمال سے انسان کولون کینسر سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
*مکئی کے استعمال سے انسان کئی طرح کی خطرناک بیماریوں مثلاًذیابیطس،دل کے جملہ امراض اوربلڈ پریشر سے بچ سکتا ہے۔
*مکئی میں وٹامن اے، بی ، ای اور کئی طرح کے منرلز پائے جاتے ہیں۔
*مکئی میں کیلوریز یا حراروں کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جس سے جسم کو تقویت ملتی ہے۔100گرام مکئی میں 342حرارے پائی جاتے ہیں۔
*مکئی میں وٹامن بی کی اچھی مقدار پائی جاتی ہے جبکہ اس میں تھیمین اور نیاسین کی مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔یہ دونوں اجزاءانسان کے اعصابی نظام کو مضبوط کرکے اسے ذہنی تناﺅ اور پاگل پن سے بچاتے ہیں۔
*مکئی میں کئی طرح کے منرلز مثلاًفاسفورس،میگنیشیم، میگنیز،زنک، آئرن اور کاپر پائے جاتے ہیں جو کہ ہمارے جسم کی نارمل نشوونما،ہڈیوں کی مضبوطی،گردوں کے افعال اور دل کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔
*کارنیل یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مکئی میں انٹی آکسیڈینٹ پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کینسر کے خلاف اچھی غذا ہے۔
*تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مکئی کے تیل میں ایسے اجزاءپائے جاتے ہیں جو برے کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا دل مضبوط ہوتا ہے۔
*مکئی کے استعمال سے خون کی کمی دور ہوجاتی ہے۔اس میں موجود آئرن ہمارے جسم کے لئے مفید ہے اورتازہ خون بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
*مکئی کے آٹے کو کئی طرح کی کاسمیٹکس بنانے میں استعمال کیا جارہے لہذا اگرآپ اسے اپنی جلد کی شادابی کے لئے استعمال کریں تو یہ بہت زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

سر آزمودہ دیسی علاجدیوں میں نزلہ ،زکام اور کھانسی جیسے امراض کا توڑ آپ کے باورچی خانے میں ،سنہری پیسٹ کے نام سے جانا جانے والا

کنجاہ ( کنجاہ نیٹ آن لائن )سردیوں کے ساتھ ہی نزلہ، زکام اور کھانسی جیسے امراض پھوٹ پڑے ہیں لیکن گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ نزلہ، زکام اور کھانسی کا توڑ آپ کے باورچی خانے میں موجود ہے۔یہ کم خرچ اور آزمودہ دیسی علاج جسے دنیا بھر میں ”سنہری پیسٹ“ کہا جاتا ہے، آپ کو ڈاکٹر کی لمبی چوڑی فیسوں اور مہنگی دواو¿ں سے بھی بچائے گا۔ اس کا اہم ترین جزو ہلدی ہے جس کی طبی خصوصیات کے جدید زمانے کے ماہرین بھی معترف ہیں۔
سنہری پیسٹ بنانے کے لیے آپ کو درج ذیل چیزیں درکار ہوں گی:
ہلدی پاو¿ڈور (60 گرام)
پانی (250 ملی لیٹر یعنی ایک گلاس)
پسی کالی مرچ (3 چائے کے چمچے یعنی 15 گرام)
زیتون یا کھوپرے کا تیل (70 ملی لیٹر یعنی تقریباً ایک تہائی کپ)
تیاری کا طریقہ:
برتن میں ایک گلاس پانی لے کر اسے ہلکی آنچ پر رکھ دیں اور کچھ دیر گرم ہونے دیں لیکن پانی اتنا گرم نہ ہو کہ ابلنے لگے۔اب اس پانی میں ہلدی پاو¿ڈر ڈال کر چمچے سے ہلاتے جائیں تاکہ 5 سے 10 منٹ میں پیسٹ بن جائے۔واضح رہے کہ چولہے کی آنچ صرف اتنی ہونی چاہیے کہ پانی گرم رہے لیکن ابلنے نہ پائے ورنہ ہلدی کے مفید اجزاءضائع ہوجائیں گے۔پیسٹ بن جانے کے بعد اس میں 3 چائے کے چمچے پسی کالی مرچ اور 70 ملی لیٹر تیل (زیتون یا کھوپرے کا) بھی شامل کردیں اور اسی طرح ہلکی آنچ پر اس میں چمچہ چلاتے رہیں یہاں تک یہ تمام اجزاءمکمل طور پر یکجان ہوجائیں۔اب اسے چولہے پر سے اتار لیں اور ٹھنڈا ہونے دیں۔ سنہری پیسٹ تیار ہے جسے آپ کسی بوتل میں بند کرکے تقریباً دو ہفتے تک ریفریجریٹر میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ البتہ اس کے بعد یہ قابلِ استعمال نہیں رہے گا۔
طریقہ استعمال :
اس سنہری پیسٹ کی ایک سے دو کھانے کے چمچوں جتنی مقدار روزمرہ کھانوں کے ساتھ چٹنی کی طرح کھائی جاسکتی ہے۔اگر آپ سردیوں میں سادہ سوپ، ویجی ٹیبل سوپ، چکن کارن سوپ یا ایسا ہی کوئی دوسرا سوپ پیتے ہیں تو ایک پیالہ سوپ میں اس سنہری پیسٹ کے دو چمچے شامل کیے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح رات کو سونے سے پہلے نیم گرم دودھ میں اسی پیسٹ کے دو چمچے ملا کر پینے سے بھی فائدہ ہوگا۔یاد رہے کہ روزانہ آپ کے جسم میں اس سنہری پیسٹ کی دو کھانے کے چمچوں جتنی مقدار پہنچنی چاہیے لیکن اس سے زیادہ نہیں کیونکہ کسی بھی چیز کی زیادتی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔سردیوں کے علاوہ بدلتے موسم میں بھی یہی سنہری پیسٹ آپ کے جسم میں دفاعی نظام کو مضبوط رکھتا ہے اور آپ بدلتے موسم کے امراض سے بھی اضافی طور پر محفوظ رہتے ہیں۔